پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا جہاں پینے کے صاف پانی کی فراہمیغیر تسلی بخش ہے۔ ڈبلیو ۔ایچ۔ او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریبا 6کروڑ 30لاکھ لوگ صاف پانی تک رسائی سے محروم ہیں جس کے باعث ڈائریا، ملیریا، ہیپاٹائیٹس اے اور بی جیسی جان لیوا بیماریاں عام ہیںاور ہر سال 2لاکھ 50ہزار بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان شہری و دیہی علاقوں میں پانی کے چھوٹے بڑے پراجیکٹسکے ذریعے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ ملک کے بالائی اور پہاڑی حصوں میں پانی کی فراہمی کے واٹر فلو کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ شہری اور میدانی علاقوں میں پانی کے کنویں، ہینڈ پمپس اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔

واٹر فلٹریشن پلانٹس

صاف، محفوظ اور صحت بخش پانی کی فراہمی کویقینی بنانے کیلئے الخدمت صاف پانی پروگرام کے تحت ملک بھر کے چھوٹےاور بڑے شہروں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کی جاتی ہے۔ یہ پلانٹس بڑے پیمانے پر صاف پانی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ہینڈ پمپس کی تنصیب

دوردراز علاقوں میں پانی کی فراہمی کیلئے ہینڈ پمپس ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ الخدمت صاف پانی پروگرام کے تحت ملک کے پسماندہ علاقوں میں چھٹے اور بڑے نلکے لگائے جاتے ہیں جس سے مقامی افراد نا صرف اپنے پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنے مویشیوں کی بھی پیاس بھجاتے ہیں۔

پانی کے کنووں کی کھدائی

پاکستان کے کچھ علاقوں میں سطح آب انتہائی نیچی ہے اور مقامی افراد کو پینے کا پانی حاصل کرنے کیلئے میلوں دور موجود کنووں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں پانی آسان تر فراہمی کیلئے الخدمت صاف پانی پروگرام کے تحت کنویں کھودے جاتے ہیں۔ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں اس ضمن میں بڑے منصوبے لگائے گئے ہیں۔

پانی کی ترسیل کے منصوبے

پہاڑی علاقوں میں پینے کے پانی ترسیل ایک مشکل عمل ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے الخدمت صاف پانی پروگرام کے تحت خصوصی اسکیمیں متعارف کروائی جاتی ہیں۔ یوں مقامی افراد کو پینے کا صاف پانی ان کے گھروں پر ہی مہیا کیا جاتا ہے۔