10.11.2017 Alkhidmat foundation's news pic

الخدمت فاؤنڈیشن، معاون سماجی تنظیموں ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی ترکیاور یونین آف این جی اوزان دی مسلم ورلڈ کے زیرِ اہتمام روہنگیا مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے ترکی کے شہر استنبول میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔

الخدمت فاؤنڈیشن، معاون سماجی تنظیموں ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی ترکیاور یونین آف این جی اوزان دی مسلم ورلڈ کے زیرِ اہتمام روہنگیا مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے ترکی کے شہر استنبول میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی 25رفاعی تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر محمد عبدالشکور نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس کا مقصد روہنگیا مہاجرین کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لینا اور ان کی ضروریات کے پیشِ نظر امدادی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی توجہ اس طرف مبذول کروانا تھا کہ وہ اس انسانی مسئلہ کو سمجھتے ہوئے سفارتی محاذ پر اپنا کردار ادا کریں اور مہاجرین کو فوری امداد مہیا کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی رفاعی اداروں اور امدادی سامان کی متاثرہ علاقوں تک رسائی کو بھی ممکن بنائے جائے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اہم اور نازک مسئلے کے حوالے سے نوجوان نسل میں شعور اجاگر کرنے کے لئے تعلیمی اوارے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔مزید یہ کہ اس اجلاس میں شریک تنظیمیں روہنگیا مہاجرین کے لئے متحرک بنگلہ دیش کی لوکل رفاعی تنظیموں کے ساتھ بھی تعلقات کو فروغ دیں تاکہ ان کے تعاون سے ریلیف سرگرمیوں کو زیادہ موثر طریقے سے سرانجام دیا جاسکے۔ اس موقع پر 7رفاعی تنظیموں کی ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جو کہ مل کر اس ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی۔ محمد عبدالشکور نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن معاون رفاعی تنظیموں کے ساتھ ملکر مظلوم روہنگیا مہاجرین کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن اب تک 20 ہزار افراد میں تیارکھانا،7000 خشک راشن پیک اور کپڑے، 1000 بچوں میں تحائف، 500 شیلٹر ہومز، 30 میڈیکل کیمپس، 50ہینڈ پمپس، 300ٹوائلٹس اور 10 ٹینٹ سکول قائم کرچکی ہے۔اس طرح سے اب تک 5کروڑ20لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم امدادی سرگرمیوں پر خرچ کی جاچکی ہے جس سے مجموعی طور پر 76000 افراد مستفید ہوئے ہیں جبکہ یہ سلسلہ مہاجرین کی مکمل بحالی تک جاری ہے۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>