web temp 72dp

الخدمت فاؤنڈیشن اورہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام روہنگیا مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے اسلام آبادمیں خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا

لاہور: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اورہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام روہنگیا مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے اسلام آبادمیں خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔جس میں بیسیوں ملکی و غیر ملکی رفاعی اداروں جن میں بیت السلام، اسلامک ریلیف، آئی آئی سی او کویت، ہیومن اپیل، اخوت، پیما ریلیف، اسلامک رحماۃ ریلیف، قطر چیرٹی، چرچ ورلڈ سروس ایشیا، ریڈ فاؤنڈیشن شامل ہیں کے سربراہان نے شرکت کی۔ حال ہی میں بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر کیمپوں کا دورہ مکمل کرکے واپس آئے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر محمد عبدالشکورنے سیمینار کی صدارت کی جبکہ روہنگیا اراکان فیڈریشن کے صدر انجینئر شیخ فردوس خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ سیمینار کا مقصد روہنگیا مہاجرین کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لینا اور ان کی ضروریات کے پیشِ نظر امدادی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی توجہ اس طرف مبذول کروانا تھا کہ وہ اس انسانی مسئلہ کو سمجھتے ہوئے سفارتی محاذ پر اپنا کردار ادا کریں اور مہاجرین کو فوری امداد مہیا کی جائے۔محمد عبدالشکور نے اس موقع پر کہا کہ وہ آج صبح ہی میانمار بنگلہ دیش بارڈر پر موجود روہنگیا مہاجرین کے کیمپس کے دورے سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے وہاں جو روہنگیا مہاجرین کی حالت دیکھی وہ قابل افسوس ہے۔ روہنگیا مہاجرین کو شیلٹر، خوراک اورادویات سمیت دیگر بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔سیمینار کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیاجس میں 25 اگست کے بعد میانمار راکھین میں پر تشدد اور انسانیت سو زواقعات کی بھر پور مذمت کی گئی۔ اعلامیہ میں بنگلہ دیش حکومت کا شکریہ ادا کیاگیا جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی ۔ اس کے علاوہ ترک حکومت کو خراج تحسین پیش کیاگیا جنہوں نے سب سے پہلے روہنگیا مہاجرین کو امداد فراہم کی۔ اعلامیہ میں بنگلہ دیش حکومت سے یہ مطالبہ بھی پیش کیا گیاکہ وہ غیر ملکی رفاعی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی دینے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرے تاکہ وہ بنا کسی دقت کے امدادی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ روہنگیا میں امدادی سرگرمیوں کومزید موثر بنانے کے لیے پاکستان میں موجود رفاعی اداروں کے ساتھ ملکر ایک فورم کی تشکیل کی تجویز بھی اعلامیہ کا حصہ تھی۔
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>