میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں.حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ ميانمار میں نسلوں سے رہ رہے ہیں.ریاست رخائن میں  گذشتہ کئی دہائیوںسے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے جس کے نتیجے  میں بڑی تعداد میں معصوم لوگوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ انھیں  وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.ان کی زندگیاں تشدد، امتیازی سلوک، بے بسی اور مفلسی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان ہمسایہ ممالک یعنی انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اوربنگلہ دیش کی جانب حجرت کرچکے ہیں۔ سمندر کےراستے چھوٹی کشتیوں میں حجرت کرنے والے بیشترافراد سمندر کی تند لہروں کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ جو بحفاظت پہنچنے میں کامیاب ہوئے وہ مہاجر کیمپوں میں نہایت ہی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جن کی تعداد 140،000سے زیادہ ہے۔باوجود اس کے کہ دنیا بھر کی رفاعی تنظیمیں ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے مصروفِ عمل ہیں اور ادویات، خوراک، گرم کپڑے، شیلٹرز اور دوسری ضروریاتِ زندگی کی اشیا باہم پہنچا رہی ہیں لیکن صورتِ حال کی سنگینی کے پیشِ نظر ابھی مزیداورمستقل بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔

 سال دو ہزار بارہ کے بعد سے ان مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن ملائشیا اور انڈونیشیا میں مصروفِ عمل اپنی برادر رفاعیدو  اداروں کے ذریعے ان مہاجرین کی امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ہمیں خوراک، ادویات، صاف پانی اور شیلٹرزمہیا  کرنے کے لئے مزید عطیات کی ضرورت ہے۔